Charagh Sharma

शिकस्ता-दिल भी थे, शाइर भी, तिश्नालब भी थे
मगर शराब न पीने के हक़ में तब भी थे

हज़ार बार उसे देखा है फिर भी याद नहीं
कि उसके चेहरे पर आँखें ही थीं कि लब भी थे

ख़ुशी के आँसू अलग क़िस्म के थे, ग़म के अलग
पर आँसुओं का सबब आप ही थे, जब भी थे

सहीह कहती थी वो‌ उसका दिल बड़ा था बहुत
हमीं नहीं थे फ़क़त उसमें और सब भी थे

कहा भी था कि दिलाए न उसकी याद कोई
मगर चमन में कई फूल बे-अदब भी थे
Charagh Sharma

شکستہ دل بھی تھے، شاعر بھی، تشنہ لب بھی تھے
مگر شراب نہ پینے کے حق میں تب بھی تھے

ہزار بار اُسے دیکھا ہے پھر بھی یاد نہیں
کہ اُس کے چہرے پر آنکھیں ہی تھیں کہ لب بھی تھے

خوشی کے آنسو الگ قسم کے تھے، غم کے الگ
پر آنسوؤں کا سبب آپ ہی تھے، جب بھی تھے

صحیح کہتی تھی وہ، اُس کا دل بڑا تھا بہت
ہمیں نہیں تھے فقط اُس میں اور سب بھی تھے

کہا بھی تھا کہ دلائے نہ اُس کی یاد کوئی
مگر چمن میں کئی پھول بے ادب بھی تھے
Charagh Sharma