कुछ ऐसे ज़ख्म हैं भरते नहीं दवा से भी
हमें तो चेन भी मिल ना सका दुवा से भी
गलीज़ कर्मों को भी जो सही समझता है
कभी सुधर नहीं पाएगा वो सज़ा से भी
पड़ी है उसको चरागों की बुझ न जाएँ कहीं
इसी लिए तो वो टकरा गया हवा से भी
वो वालिदेन का फरमान किस तरह माने
जो आदमी ही भला दूर है ख़ुदा से भी
MOHAMMAD RAFAY JAAMI
کچھ ایسے زخم ہیں بھرتے نہیں دوا سے بھی
ہمیں تو چین بھی مل نہ سکا دعا سے بھی
غلیظ کرموں کو بھی جو صحیح سمجھتا ہے
کبھی سدھر نہیں پائے گا وہ سزا سے بھی
پڑی ہے اُس کو چراغوں کی، بُجھ نہ جائیں کہیں
اسی لیے تو وہ ٹکرا گیا ہوا سے بھی
وہ والدین کا فرمان کس طرح مانے
جو آدمی ہی بھلا دُور ہے خدا سے بھی
MOHAMMAD RAFAY JAAMI