सोचता था उम्र-भर, चाहत नहीं
सोचना कैसा अगर चाहत नहीं
अब सरापा हुस्न भी है राएगाँ
तुझमें है ही क्या अगर चाहत नहीं
क़ैद है इसमें सभी के वास्ते
हो रिहाई, वो डगर चाहत नहीं
बे-वफाई, बे-दिली, बे-रग़बती
सब अ'नासिर हैं मगर चाहत नहीं
तेरी ख़ातिर जान-ए-जां हम मर मिटें
है तो लेकिन, इस क़दर चाहत नहीं
Junaid Shaad
سوچتا تھا عمر ، بھر چاہت نہیں
سوچنا کیسا اگر چاہت نہیں
اب سراپا حُسن بھی ھے رائیگاں
تجھ میں ہے ہی کیا اگر چاہت نہیں
قید ہے اِس میں سبھی کے واسطے
ہو رہائی ، وہ ڈگر چاہت نہیں
بے وفائی، بے دلی، بے رغبتی
سب عناصر ہیں مگر چاہت نہیں
تیری خاطر جانِ جاں ہم مر مٹیں
ہے تو لیکن اِس قدر چاہت نہیں
Junaid Shaad