मुझ सा बीमार भी नहीं देखा
और क्यों प्यार भी नहीं देखा!
बिछड़ा कुछ ऐसे वो गुज़िश्ता शब
मुड़ के इक बार भी नहीं देखा
तुझ से मिलने की चाह में हमने
राह का ख़ार भी नहीं देखा
देखने तुझ को आ गए कॉलेज
हम ने इतवार भी नहीं देखा
Junaid Shaad
مجھ سا بیمار بھی نہیں دیکھا
اور کیوں پیار بھی نہیں دیکھا !
بچھڑا کچھ ایسے وہ گزشتہ شب
مُڑ کے اِک بار بھی نہیں دیکھا
تُجھ سے ملنے کی چاہ میں ہم نے
راہ کا خار بھی نہیں دیکھا
دیکھنے تجھ کو آگئے کالج
ہم نے اتوار بھی نہیں دیکھا
Junaid Shaad