जल भी जाते हैं कभी आग लगाने वाले
ख़ुद न मिट जाएँ कहीं हमको मिटाने वाले
मैं तमाशा हूँ तमाशाई है सारी दुनिया
मैंने सोचा था कि अपने हैं ज़माने वाले
अपना कहकर भी मेरी कद्र न की अपनों-सी
नीच निकले हैं मुझे नीचा दिखाने वाले
क्या ज़रा-सा मैं बुलंदी की तरफ़ आ पहुँचा
ख़ूब आने लगे एहसान जताने वाले
मैंने देखा ही नहीं तेरे मुक़द्दर में सुकून
रहके परदेस में दिन-रात कमाने वाले
शाख-ओ-गुल जलके यहाँ राख़ हुए जाते हैं
'जामी' क्या मर गए सब आग बुझाने वाले
MOHAMMAD RAFAY JAAMI
جل بھی جاتے ہیں کبھی آگ لگانے والے
خود نہ مٹ جائیں کہیں ہم کو مٹانے والے
میں تماشا ہوں تماشائی ہے ساری دنیا
میں نے سوچا تھا کہ اپنے ہیں زمانے والے
اپنا کہہ کر بھی میری قدر نہ کی اپنوں سی
نیچ نکلے ہیں مجھے نیچا دکھانے والے
کیا ذرا سا میں بلندی کی طرف آ پہنچا
خوب آنے لگے احسان جتانے والے
میں نے دیکھا ہی نہیں تیرے مقدر میں سکون
رہ کے پردیس میں دن رات کمانے والے
شاخ و گل جل کے یہاں راکھ ہوئے جاتے ہیں
جامی کیا مر گئے سب آگ بجھانے والے
MOHAMMAD RAFAY JAAMI